امریکی فوج نے شام میں داعش کے درجنوں ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے بڑے پیمانے پر فضائی اور زمینی حملے کیے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی امریکی اہلکاروں پر ہونے والے حالیہ حملے کے جواب میں کی گئی۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران داعش کے جنگجوؤں، انفراسٹرکچر اور اسلحہ کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ اس آپریشن کو “آپریشن ہاک آئی اسٹرائیک” کا نام دیا گیا ہے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ یہ کسی نئی جنگ کا آغاز نہیں بلکہ دشمن کے خلاف انتقامی کارروائی ہے۔ ان کے مطابق امریکی افواج نے اپنے دشمنوں کا تعاقب کیا اور انہیں ہلاک کیا، اور یہ کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ شامی حکومت نے ان حملوں کی مکمل حمایت کی ہے اور امریکا داعش کے خلاف سخت ترین جواب دے رہا ہے۔
امریکی سینٹرل کمان کے مطابق وسطی شام میں 70 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ اس کارروائی میں اردن کے جنگی طیاروں نے بھی تعاون کیا۔ ایک امریکی اہلکار کے مطابق حملوں میں ایف-15 اور اے-10 طیاروں، اپاچی ہیلی کاپٹروں اور ہائی مارز راکٹ سسٹم کا استعمال کیا گیا۔
