اسلام آباد ہائیکورٹ نے ضبط شدہ سونے کی اینٹوں کی واپسی کے بدلے تقریباً 48 لاکھ روپے ادا کرنے کی پیشکش پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ کلکٹر کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 2 ہفتوں میں جواب طلب کر لیا۔
جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان اور جسٹس ارباب محمد طاہر پر مشتمل اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے وقار النساء نامی خاتون کی جانب سے دائر توہین عدالت کی درخواست پر حکمنامہ جاری کیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار کو سونے کی اینٹیں واپس کرنے کا حکم دیا گیا تھا، ان کے بدلے رقم ادا کرنے کا نہیں۔ درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر دانیال سہیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ادائیگی کے لیے سونے کی موجودہ قیمت کے بجائے 2023 کی قیمت مقرر کی گئی ہے۔
عدالت نے سوال اٹھایا کہ سونے کی قیمت میں اضافے کا فائدہ ریاست کو کیوں دیا جائے؟ جبکہ اس کا مالی نقصان درخواست گزار برداشت کرے۔
