نائن الیون واقعے کو 25 سال مکمل ہو گئے، یہ وہ تاریخ ہے جس نے افغانستان کو بدل کر رکھ دیا، خطے کا نقشہ تبدیل کیا اور عالمی سیاست کا رخ موڑ دیا۔
پالیسی رپورٹس، عسکری مہمات اور دیگر امدادی اعداد و شمار اس کہانی کا ایک رخ بیان کرتے ہیں، لیکن دوسری طرف وہ عام افغان شہری ہیں جنہوں نے اس طویل کرب ناک عرصے میں خود سے کیے گئے وعدوں کو ٹوٹتے ہوئے دیکھا۔
بشار خلجی* کی زندگی بھی اسی سفر کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کے خاندان نے 1980 کی دہائی میں افغانستان کی خانہ جنگی کے دوران ملک چھوڑ دیا اور پاکستان میں بطور پناہ گزین ان کی پرورش ہوئی، تاہم ان کے خاندان کے افغانستان سے قریبی تعلقات بھی برقرار رہے۔
2004 میں 27 سالہ خلجی اپنے خاندان کے ساتھ افغانستان واپس آئے۔ انہیں یقین تھا کہ ان کا ملک خوشحال مستقبل کی جانب بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کابل یونیورسٹی سے انگریزی میں ڈگری حاصل کی اور دیہی علاقوں میں شہری اداروں کے قیام کے لیے کام کرنے والی ایک مغربی امداد سے چلنے والی این جی او میں ملازمت اختیار کرلی۔
آج نائن الیون واقعے کے 25 سال بعد خلجی کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے کے بجائے ایک المناک انجام کے ساتھ اپنے نقطہ آغاز پر آگیا ہے۔ امریکی انخلا کے بعد 2021 میں طالبان دوبارہ اقتدار میں آئے۔ کابل میں قائم کیا گیا سیاسی نظام غیر ملکی سرمائے، فوجی طاقت اور سیاسی حمایت کے ساتھ انتہائی کمزور بنیادوں پر کھڑا تھا۔
