امریکا سمیت دنیا کے بڑے تیل استعمال کرنے والے ممالک کے اسٹریٹجک ذخائر تیزی سے کم ہونے لگے، آبنائے ہرمز کی دوبارہ بندش نے عالمی تیل منڈی میں نئے بحران کا خدشہ پیدا کردیا ۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی تیل کی منڈی ایک مرتبہ پھر شدید دباؤ کا شکار ہے کیونکہ امریکا اور چین جیسے بڑے صارف ممالک کے اسٹریٹجک ذخائر نمایاں حد تک کم ہوچکے ہیں، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل بھی دوبارہ متاثر ہوگئی ہے۔
امریکی محکمہ توانائی (EIA) کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق امریکا کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو (SPR) میں خام تیل کی مقدار کم ہوکر 316.5 ملین بیرل رہ گئی ہے، جو 1983 کے بعد کم ترین سطح سمجھی جا رہی ہے۔ رواں سال دوسری سہ ماہی کے دوران امریکا نے عالمی منڈی میں سپلائی برقرار رکھنے کے لیے تقریباً 172 ملین بیرل خام تیل اپنے ہنگامی ذخائر سے جاری کیا تھا۔
دوسری جانب چین، جس کے بارے میں اندازہ تھا کہ اس نے ایران جنگ سے قبل تقریباً 1.3 ارب بیرل خام تیل ذخیرہ کر رکھا تھا، اب انہی ذخائر سے تیل استعمال کرنے پر مجبور ہے۔ بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مشرقِ وسطیٰ سے محدود سپلائی کے باعث چین نے اپنی خام تیل کی درآمدات بھی 2018 کے بعد کم ترین سطح تک محدود کردی ہیں۔
