اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت کے تعلیمی اداروں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان اور اس کے خاتمے کے لیے دائر درخواست پر اہم سماعت کی ہے۔
عدالت نے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) سے یونیورسٹیوں میں منشیات کے استعمال کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے، جبکہ وزارت تعلیم کو اس حوالے سے قواعد و ضوابط وفاقی حکومت سے جلد منظور کرانے کی بھی ہدایت کی ہے۔
سماعت کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ وہ پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ منشیات کی منتقلی میں آن لائن رائیڈرز اور ڈیلیوری بوائز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
اس موقع پر درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کراچی میں جاری ایک مقدمے میں بھی رائیڈرز اور ڈیلیوری بوائز کے منشیات کی سپلائی میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
ایچ ای سی حکام نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ تعلیمی اداروں میں رائیڈرز کے لیے اب ایک مخصوص جگہ مقرر کر دی گئی ہے اور جو بھی ڈیلیوری بوائے آتا ہے پہلے اس کی سخت چیکنگ کی جاتی ہے۔
